کراچی کا علاقہ لیاری ہمیشہ سے اپنی الگ شناخت رکھتا آیا ہے۔ ایک وقت تھا جب لیاری کو کھیل، موسیقی اور بلوچ ثقافت کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ غربت، بے روزگاری اور ریاستی نظراندازی نے اس علاقے کو جرائم کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ انہی حالات کی پیداوار ایک نام تھا — رحمٰن بلوچ، جسے بعد میں پورا شہر رحمٰن ڈکیت کے نام سے جاننے لگا۔
یہ کہانی صرف ایک گینگسٹر کی نہیں بلکہ اس پورے نظام کی ہے جس نے ایسے کردار کو جنم دیا۔
رحمٰن بلوچ کی ابتدائی زندگی
رحمٰن بلوچ کا اصل نام سردار عبدالرحمن بلوچ تھا۔ وہ 1975 میں لیاری، کراچی میں پیدا ہوا۔ جس ماحول میں اس نے آنکھ کھولی، وہاں تعلیم اور مثبت مواقع نایاب تھے جبکہ اسلحہ، منشیات اور طاقت روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔
رحمٰن کا خاندانی پس منظر بھی عام نہیں تھا۔ اس کے والد ابو محمد اور چچا شیرو 1960 کی دہائی سے منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ ایسے گھر میں پرورش پانے والا بچہ جرم کو غیر معمولی نہیں بلکہ معمول سمجھنے لگتا ہے، اور یہی رحمٰن کے ساتھ ہوا۔
بچپن، ماحول اور نفسیاتی اثرات
رحمٰن نے بچپن ہی سے تشدد، پیسہ اور طاقت کو قریب سے دیکھا۔ تعلیم، رہنمائی اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پاس انتخاب محدود تھے۔ وہی راستہ اسے سب سے آسان اور قریب نظر آیا جو اس کے اردگرد موجود تھا۔
اس ماحول نے رفتہ رفتہ اس کے اندر خوف کو ختم اور تشدد کو معمول بنا دیا۔ یہی وہ نفسیاتی تبدیلی تھی جس نے ایک عام لڑکے کو خطرناک مجرم بننے کی طرف دھکیل دیا۔
جرائم کی دنیا میں داخلہ
رحمٰن بلوچ نے نوعمری میں ہی منشیات کی فروخت شروع کر دی۔ صرف 13 سال کی عمر میں اس کا پہلا پرتشدد واقعہ سامنے آیا، جس کے بعد لیاری میں اس کا نام لیا جانے لگا۔ یہ وہ وقت تھا جب اس کی شناخت ایک عام لڑکے سے نکل کر ایک خوف کی علامت بننے لگی۔
جلد ہی وہ چھوٹے جرائم سے نکل کر سنگین وارداتوں میں ملوث ہو گیا اور پولیس کی نظروں میں آ گیا۔
والدہ کے قتل کا متنازع الزام
1995 میں رحمٰن بلوچ پر ایک ایسا الزام لگا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس پر الزام عائد ہوا کہ اس نے اپنی والدہ خدیجہ بی بی کو قتل کیا۔ یہ کیس آج بھی متنازع سمجھا جاتا ہے اور اس کی حقیقت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، مگر اس الزام نے رحمٰن کی شخصیت پر ایک گہرا اور ناقابلِ مٹ داغ چھوڑ دیا۔
اس واقعے کے بعد اسے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جانے لگا جو کسی بھی حد تک جا سکتا تھا، اور یہی نقطہ اس کے مکمل طور پر جرم کی دنیا میں ڈوب جانے کا سبب بنا۔
حاجی لالو کے گینگ میں شمولیت
رحمٰن بلوچ نے بعد میں لیاری کے طاقتور گینگ لیڈر حاجی لالو کے گینگ میں شمولیت اختیار کی۔ حاجی لالو اس وقت لیاری کا سب سے بااثر شخص تھا اور اس کے سیاسی روابط بھی مضبوط تھے۔
رحمٰن نے اپنی بے رحمی، تیزی اور اندھی وفاداری سے جلد ہی گینگ میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ اس کی شہرت ایک خطرناک اور بے خوف شخص کے طور پر پھیلنے لگی۔
طاقت کا عروج اور قیادت
2001 میں حاجی لالو کی گرفتاری کے بعد لیاری میں طاقت کا توازن بدل گیا۔ گینگ کی قیادت رحمٰن بلوچ کے ہاتھ آ گئی اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے اس کی اصل طاقت کا آغاز ہوا۔
اس نے نہ صرف گینگ کو منظم کیا بلکہ اسے مزید پھیلا دیا۔ مخالفین کو ایک ایک کر کے ختم کیا گیا اور لیاری میں خوف کا راج قائم ہو گیا۔
ارشد پپو سے دشمنی اور گینگ وار
حاجی لالو کے بیٹے ارشد پپو نے رحمٰن بلوچ کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ اختلاف جلد ہی ذاتی دشمنی اور پھر لیاری کی سب سے خونی گینگ وار میں تبدیل ہو گیا۔
کئی سال تک لیاری میں فائرنگ، دستی بم حملے اور قتل روز کا معمول بنے رہے۔ عام شہری گھروں میں قید ہو گئے، اسکول بند ہوئے اور کاروبار تباہ ہو گئے۔
جرائم کی سلطنت اور متوازی نظام
رحمٰن بلوچ کے گینگ نے منشیات اسمگلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قتل اور اسلحے کے کاروبار سے کروڑوں روپے کمائے۔ کہا جاتا ہے کہ لیاری کے بڑے حصے پر اس کا براہِ راست کنٹرول تھا۔
اس نے ایک متوازی نظام قائم کر رکھا تھا جہاں اس کا حکم ہی قانون سمجھا جاتا تھا اور مخالفت کی سزا اکثر موت ہوتی تھی۔
عوام کے ساتھ دوہرا تعلق
رحمٰن بلوچ کا لیاری کے عوام کے ساتھ تعلق عجیب نوعیت کا تھا۔ اکثریت اس سے خوفزدہ تھی، لیکن ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو اسے ڈاکو نہیں مانتا تھا۔ وہ فلاحی کاموں میں پیسہ لگاتا، غریبوں کی مدد کرتا اور بعض اوقات مقامی تنازعات حل کرتا تھا۔
اسی وجہ سے کچھ لوگ اسے آج بھی ایک “رابن ہڈ” کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
سیاست اور پیپلز امن کمیٹی
رحمٰن بلوچ کے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ 2008 میں پیپلز امن کمیٹی کے قیام نے اسے سیاسی تحفظ فراہم کیا، جس کی آڑ میں اس کی طاقت مزید بڑھتی چلی گئی۔
یہی سیاسی گٹھ جوڑ لیاری میں قانون کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ بنا۔
پولیس، چوہدری اسلم اور آخری مقابلہ
لیاری میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے بعد پولیس افسر چوہدری اسلم خان کو اینٹی گینگ سیل کی قیادت سونپی گئی۔ ان کا ماننا تھا کہ لیاری میں امن صرف سخت کارروائی سے ہی ممکن ہے۔
بالآخر 9 اگست 2009 کو کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں ایک آپریشن کے دوران پولیس نے رحمٰن بلوچ کو گھیر لیا۔ طویل فائرنگ کے بعد وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ صرف 34 سال کی عمر میں ایک خونی دور اختتام کو پہنچا۔
انجام اور سبق
رحمٰن بلوچ کی موت کے بعد بھی لیاری فوراً پُرسکون نہیں ہوا۔ اس کا کزن عزیر بلوچ سامنے آیا، ارشد پپو قتل ہوا اور بالآخر رینجرز آپریشن نے گینگ وار کی کمر توڑی۔
رحمٰن بلوچ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب ریاست پیچھے ہٹ جائے، غربت اور ناانصافی کو نظرانداز کیا جائے اور قانون کمزور پڑ جائے تو ایسے کردار جنم لیتے ہیں۔ لیاری آج نسبتاً پرسکون ہے، مگر یہ کہانی ایک وارننگ ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔
