بشنوئی گینگ جنوبی ایشیا کا خطرناک مجرمانہ نیٹ ورک
بشنوئی گینگ آج صرف ایک مقامی گروہ نہیں رہا — یہ ایک ایسا مجرمانہ نیٹ ورک بن چکا ہے جس نے بھارت سمیت کئی ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ اس گینگ کا نام پہلی بار بڑے پیمانے پر اس وقت سامنے آیا جب اس کے ساتھ جڑے ہائی پروفائل کیسز میڈیا میں زیرِبحث آئے، اور پھر رفتہ رفتہ یہ پورے خطے میں خوف کی علامت بنتا چلا گیا۔
لارنس بشنوئی پسِ منظر اور آغاز
بشنوئی گینگ کا مرکزی کردار لارنس بشنوئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا تعلق کسی کچی بستی سے نہیں بلکہ ایک خوشحال گھرانے سے تھا۔ تعلیم کے دوران اس کا جھکاؤ اسٹوڈنٹ سیاست اور پھر تشدد کی طرف ہو گیا۔ شروع کے چند جھگڑے، بعد میں منظم جرائم میں بدل گئے — اور یہی ایک پورے نیٹ ورک کی بنیاد بن گیا۔
جیل کے اندر سے چلنے والا نیٹ ورک
لارنس برسوں سے سخت سکیورٹی والی جیل میں قید ہے، مگر رپورٹس کے مطابق اس نے انکرپٹڈ ایپس اور آن لائن رابطوں کے ذریعے اپنے ساتھیوں کا نیٹ ورک فعال رکھا۔
کہا جاتا ہے کہ مختلف شہروں اور ملکوں میں بیٹھے افراد اس کے “آرڈرز” پر کام کرتے ہیں — اور یہی چیز اس گینگ کو خطرناک بناتی ہے۔
ہائی پروفائل کیسز خوف کی ایک نئی لہر
بشنوئی گینگ پر کئی بڑے حملوں اور قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات لگ چکے ہیں۔
ان واقعات نے نہ صرف عوام بلکہ فنکاروں، کاروباری شخصیات اور سیاسی حلقوں میں بھی خوف پیدا کیا۔
جہاں کہیں اس نیٹ ورک کا نام آتا ہے — وہاں سکیورٹی فورسز فوراً متحرک ہو جاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا، بھرتی اور طاقت
یہ گینگ سوشل میڈیا کو صرف رابطے کے لیے استعمال نہیں کرتا — بلکہ طاقت دکھانے، خوف پھیلانے اور نوجوانوں کو متاثر کرنے کے لیے بھی کرتا ہے۔
انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر “گینگسٹر” لائف اسٹائل کو ہیرو بنا کر دکھایا جاتا ہے — جس سے متاثر ہو کر کئی نوجوان غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔
ہتھیار، اسمگلنگ اور بین الاقوامی رابطے
اس گینگ کا ایک مضبوط پہلو ہتھیاروں اور مالی روابط کا نیٹ ورک ہے۔
غیر قانونی ہتھیار، منشیات اور مالی لین دین — یہ سب اسے ایک منظم جرائم پیشہ تنظیم بناتے ہیں، جسے ختم کرنا حکومتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
عالمی سکیورٹی اداروں کی مداخلت
پچھلے چند سالوں میں مختلف ملکوں کی ایجنسیوں — جیسے NIA، پولیس اور انٹرنیشنل اداروں — نے اس نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ کارروائیاں شروع کیں۔
گرفتاریاں، چھاپے، بینک اکاؤنٹس فریز — سب کچھ اس لیے تاکہ اس گینگ کو جڑ سے کمزور کیا جا سکے۔
آج، بڑی تعداد میں مقدمات، گرفتاریوں اور عالمی دباؤ کے باعث یہ نیٹ ورک پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔
مگر سچ یہ ہے کہ جب تک آن لائن رابطے، غیر قانونی ہتھیار اور آسان پیسہ موجود ہیں — اس طرح کے گروہ دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔
