یوٹیوبر عادل راجہ نے جھوٹے الزامات عائد کرنے پر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر سے باضابطہ معافی طلب کر لی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عادل راجہ نے اعتراف کیا کہ لندن کی عدالت نے انہیں راشد نصیر کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے اور ساتھ ہی مقدمے کے قانونی اخراجات بھی برداشت کرنے کا حکم دیا ہے۔
عادل راجہ کے مطابق 14 جون سے 29 جون 2022 کے دوران انہوں نے راشد نصیر سے متعلق متعدد الزامات عائد کیے تھے، تاہم عدالت کے مطابق یہ تمام دعوے بلا ثبوت اور غلط ثابت ہوئے۔ عادل راجہ نے بھی تسلیم کیا کہ وہ اپنے لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔
برطانیہ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے عادل راجہ کو ہرجانے کی ادائیگی کا پابند بنایا۔
جج رچرڈ اسپیئر مین کا کہنا تھا کہ عادل راجہ کی جانب سے لگائے گئے دعووں کے حق میں کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی، جبکہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس نے سابق فوجی افسر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سوشل میڈیا پر کیے جانے والے یہ الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے تھے، اور آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کی عزت و شہرت کو مجروح نہیں کیا جا سکتا۔
ارشد شریف قتل کیس سے متعلق عادل راجہ کے الزامات کو بھی عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رد کر دیا، اور واضح کیا کہ یہ معاملہ آئی ایس آئی یا فوج سے متعلق نہیں بلکہ دو افراد کے درمیان ایک تنازع تھا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عادل راجہ نے اپنے دفاع میں “عوامی مفاد” کا حوالہ دیا، مگر وہ اپنے بیانات کے حق میں کوئی معتبر ثبوت دینے میں ناکام رہے۔
یہ کیس رائل کورٹ آف جسٹس لندن میں زیرِ سماعت تھا، جس کی کارروائی 21 جولائی 2025 سے شروع ہوئی۔ عدالت نے تمام دفاعی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ راشد نصیر کے حق میں دے دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق عادل راجہ کو راشد نصیر کو تقریباً 2 کروڑ روپے ہرجانہ اور مزید 11 کروڑ 30 لاکھ روپے وکلا و عدالتی اخراجات کی مد میں ادا کرنا ہوں گے۔
