غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی عالمی کوشش: گلوبل صمود فلوٹیلا کیا ہے؟
کلیدی الفاظ: گلوبل صمود فلوٹیلا، غزہ کی ناکہ بندی، امدادی بحری بیڑہ، فلسطین، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مشن، صمود، اسرائیل
غزہ کی پٹی طویل عرصے سے اسرائیل کی سمندری، زمینی اور فضائی ناکہ بندی کا سامنا کر رہی ہے، جس نے وہاں کے فلسطینی عوام کے لیے ایک سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس مشکل وقت میں، دنیا بھر سے عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے “گلوبل صمود فلوٹیلا” (Global Sumud Flotilla) کے نام سے ایک تاریخی بحری مہم شروع کی ہے تاکہ ناکہ بندی کو توڑا جا سکے اور غزہ کے لوگوں تک زندگی بچانے والی امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔
صمود فلوٹیلا کا مقصد کیا ہے
صمود (Sumud) ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “ثابت قدمی” یا “لچک”۔ یہ نام خود اس فلوٹیلا کے مشن کی عکاسی کرتا ہے— غزہ کی پٹی کے باشندوں کے لیے ثابت قدمی اور امید کا پیغام لے جانا اور ان کی حمایت میں کھڑا ہونا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کا بنیادی مقصد صرف امداد پہنچانا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عدم تشدد پر مبنی براہ راست کارروائی (Non-violent Direct Action) بھی ہے جس کا ہدف اسرائیل کی غیر قانونی سمندری ناکہ بندی کو بین الاقوامی پانیوں میں چیلنج کرنا ہے۔ اس فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیاں اور جہاز شامل ہیں جن میں دنیا کے 44 سے زیادہ ممالک کے 500 سے زائد شرکاء سوار ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا شہری امدادی قافلہ ہے۔
کون کر رہا ہے اس کی قیادت؟
یہ فلوٹیلا کسی ایک ملک یا حکومت کی طرف سے نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی شہری معاشرے کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسے فریڈم فلوٹیلا کولیشن، گلوبل موومنٹ ٹو غزہ، مغرب صمود فلوٹیلا اور صمود نوسنتارا جیسی تنظیموں نے مل کر منظم کیا ہے۔
فلوٹیلا میں شامل ہونے والی اہم شخصیات میں موسمیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، جنوبی افریقہ کے آنجہانی رہنما نیلسن منڈیلا کے پوتے ماندلا منڈیلا، اور کئی یورپی قانون ساز اور کارکن شامل ہیں۔ ان سب کا مقصد ایک ہے: غزہ میں قحط کی صورتحال اور جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانا۔
فلوٹیلا کا سفر اور حالیہ پیش رفت
گلوبل صمود فلوٹیلا نے اگست اور ستمبر 2025 کے اواخر میں یورپ کے مختلف بندرگاہوں جیسے بارسلونا، جینوا اور تیونس سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ ان کشتیوں میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور دیگر ضروری انسانی امداد کا ایک علامتی لیکن اہم ذخیرہ موجود ہے۔
خطرناک صورتحال: ناکہ بندی کے علاقے کے قریب پہنچنے پر، فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اسرائیل نے فلوٹیلا کو “فعال جنگی علاقے” کی خلاف ورزی کرنے کا انتباہ دیا اور ان امدادی کشتیوں کو روکنے کی دھمکی دی ہے۔
کشتیوں کو روکا گیا: اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کی کئی کشتیوں کو زبردستی روکا اور ان میں سوار کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ عالمی سطح پر اس کارروائی کی مذمت کی گئی ہے اور کئی ممالک نے اپنے شہریوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی ردعمل: کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو جیسے رہنماؤں نے فلوٹیلا کی حمایت میں بیانات جاری کیے ہیں اور اس عمل کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے
مستقبل کا کیا ہے؟
گلوبل صمود فلوٹیلا ایک طاقتور پیغام ہے کہ دنیا کے عام لوگ غزہ کے لوگوں کی آزادی اور وقار کے لیے کھڑے ہیں۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھیں گے اور غزہ کی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
یہ بحری مہم نہ صرف امداد کی فراہمی کی کوشش ہے بلکہ یہ غزہ پر عائد غیر قانونی محاصرے کو ختم کرنے کے لیے عالمی شعور کو بیدار کرنے کی ایک اہم کاوش بھی ہے۔ دنیا کی نظریں اس وقت بحیرہ روم پر جمی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ثابت قدمی کا یہ سمندری قافلہ غزہ کے ساحلوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔
کیا آپ کے خیال میں اس طرح کے شہری اقدامات بین الاقوامی پالیسیوں کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟ اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں۔
